تعارف و اغراض و مقاصد

ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا ایک متفقہ، اصولی، اساسی اور بنیادی عقیدہ ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کو دین اسلام میں وہی حیثیت حاصل ہے جو ایک بلند و بالا عمارت میں بنیاد کو یا جو ایک تندرست و توانا جسم میں شہہ رگ کو۔ جیسے بنیاد کے بغیر عمارت کا وجود باقی نہیں رہ سکتا اور شہہ رگ اور دل کے بغیر انسان بے حس و بے حرکت ہے ایسے ہی عقیدہ ختم نبوت کے بغیر دین باقی نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے دور رسالت اور خلافت راشدہ اور بعد کے اسلامی ادوار میں کبھی کسی مدعی نبوت اور اسکے ماننے والوں سے سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ منکرین ختم نبوت کے جن فتنوں نے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ان میں "قادیانیت” ایک بڑا اور خطرناک ارتدادی فتنہ ہے جو سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں پھنسانے کیلئے اپنی ارتدادی سرگرمیوں کو تیز کئے ہوئے ہے۔ اس فتنے کے خلاف بہت سے خوش قسمت افراد اور جماعتیں اپنی جدوجہد کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

الحمدللہ انہیں جماعتوں میں سے مجلس احرار گذشتہ دو دہائیوں سے حضرات علماء کرام اور مشائخ عظام کے مزاج کے مطابق ان کی ہدایات اور مشاورت سے تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالتﷺ کے مقدس محاذ پر مختلف شعبہ جات اور عوامی حلقوں میں نمایاں خدمات سر انجام دے رہی ہے۔

Majlis Ahrar

ماہنامہ نقیب ختم نبوت

عقائد اسلامیہ اور فرق باطلہ

عقائدِ اسلامیہ قرآن و سنت کی روشنی میں وہ بنیادی ایمان ہیں جن پر ایک مسلمان کا دین قائم ہوتا ہے، جیسے توحید، رسالت، آخرت، فرشتوں اور الہامی کتابوں پر ایمان۔ یہ عقائد انسان کے کردار، عبادات اور طرزِ زندگی کو درست سمت دیتے ہیں۔ اس کے برعکس فرقِ باطلہ وہ گروہ ہیں جو ان بنیادی عقائد سے انحراف کرتے ہوئے اپنی من گھڑت تشریحات اور نظریات پیش کرتے ہیں۔ ایسے فرقے اکثر عقل یا خواہشات کو وحی پر فوقیت دیتے ہیں۔ اس سے امتِ مسلمہ میں انتشار اور گمراہی پیدا ہوتی ہے۔

 اسلام نے ہمیں اعتدال اور حق کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ صحیح عقائد کی پہچان کے لیے علمِ دین حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ قرآن و سنت کو معیار بنائے بغیر حق و باطل میں تمیز ممکن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت نے اصل عقائد کو چھوڑا، زوال کا شکار ہوئی۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ عقائدِ اسلامیہ کو مضبوطی سے تھامے اور فرقِ باطلہ سے خود کو محفوظ رکھے۔

Majlis Ahrar

بزرگان مجلس احرار اسلام پاکستان

قراردادیں اور مضامین

یوٹیوب ویڈیوز